اللہ بڑا بے نیاز ہے ہارون الرشید - نا تمام 21 اکتوبر 2017 پھر ایک سوال نے ذہن میں پڑائو ڈال دیا۔ امیر زادوں کو کوئی استاد کیوں نصیب نہ ہوا‘ جو ان میں مطالعے کا ذرا سا ذوق ہی پیدا کر دیتا؟ بات کرنے کا سلیقہ ہی سکھا دیتا۔ بسوں پر لکھے شعر تو نہ پڑھا کرتے۔ اللہ بڑا بے نیاز ہے۔ اب تک وہ تصویر نگاہوں میں گھومتی ہے۔ دیہاتی لڑکے کو حافظ حسین احمد نے ہوا میں اچھالا اور ان کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ کھلتا ہوا گندمی رنگ‘ تیکھے نقوش‘ درمیانہ قد اور گھنی سیاہ داڑھی۔ پچپن برس بیت گئے‘ جب آخری بار انہیں دیکھا تھا۔ سورۂ اخلاص زبانی یاد کر لی تھی۔ اس پر وہ شاد تھے۔ سکول جانے سے پہلے‘ ہم 42 جنوبی سرگودھا کی اس چھوٹی سی مسجد میں جمع ہوا کرتے۔ اپنا آموختہ دہراتے اور اگلا سبق لیا کرتے۔ ابتدائی کلاسیں سکول کے صحن‘ برآمدے یا سامنے شیشم کے چھتنار شجر کی چھائوں تلے ہوا کرتیں۔ اگر میں ایک مصور ہوتا تو مو قلم سے ماسٹر محمد رمضان کی ہو بہو تصویر بنا دیتا۔ لمبا قد‘ طویل گردن‘ چہرے پر ہمہ وقت سنجیدگی مگر نرمی اور شائستگی۔ شاید ہی کبھی سزا دیتے۔ ایسے گنوار بھی موجود تھے کہ انتباہ کے لیے‘ وہ لکڑی کی سال خوردہ...
Authentic Pakistani news and from authentic sources